6 دسمبر 2012 - 20:30

شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کی کونسل کا اجلاس قرقیزستان میں شروع ہو گيا ہے۔

ابنا: یہ اجلاس قرقیزستان کے وزیر اعظم جانتورا ساتی بالدی اف کی صدارت میں شروع ہوا جس میں چین روس قزاقستان اور تاجیکستان کے وزرائے اعظم وین جیا باؤ، دیمیتری میدودف، سریک احمداف اور عاقل عاقل اف کے علاوہ ازبکستان کے نائب وزیراعظم رستم عظیم اف، شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل مراد بیگ ایمان علی اف اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اول سمیت مبصر ممالک کے مندوبین شرکت کررہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مشترکہ اجلاس کے اختتام پر رکن اور مبصر ملکوں کے سرکاری وفود مختلف شعبوں میں تعاون کی آٹھ دستاویزات پر دستخط کریں گے۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے ممالک عالمی اور علاقائی اقتصادی حالات اور اقتصادی تجارتی اور افرادی تعاون کو فروغ دینے سے متعلق مسائل کا جائزہ لیں گے۔ اگرچہ دو ہزار سولہ تک شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے اقتصادی تعاون کے ترقیاتی پروگرام کی اسٹریٹجی کا تعین بیشکک اجلاس کے پروگراموں میں سرفہرست ہے تاہم بعض رکن ممالک اس تنظیم کے سکیورٹی کردار کے بدستور قائل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان ممالک کے لیے سکیورٹی مسائل اس علاقائی تنظیم کے کاموں میں بدستور سرفہرست ہیں۔ چین کے نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ شنگھائی تعاون تنظیم خارجی خطروں کے مقابلے کی توانائی بڑھانے کے مقصد سے بیشکک اجلاس میں نئی تدابیر پیش کرے گی، اس دعوے کی دلیل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیجنگ وسطی ایشیا کے علاقے میں امریکہ اور یورپی حکومتوں کے سیاسی فوجی اور سکیورٹی اقدامات کو بدستور اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے؛ خصوصا اس لیے کہ مغربی ممالک بدستور اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ وہ علاقے کے ممالک کے اڈوں میں اپنے فوجی تعینات کر کے اور اپنے سیاسی و اقتصادی اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا کے علاقے میں اپنی فوجی موجودگي کو نہ صرف قائم رکھیں گے بلکہ اس میں مزید اضافہ کریں گے۔ چین کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھنے والے ممالک قرقیزستان اور تاجیکستان میں امریکہ اور مغربی ملکوں کی فوجی موجودگی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ افغانستان میں نیٹو فوجیوں کی موجودگی کہ جو شنگھائی تعاون تنظیم کا مبصر رکن ہے اور جس کی چین سے سرحد ملتی ہے، خاص طور پر چین کے لیے حساسیت کا باعث بن گئي ہے۔ اس کے علاوہ روس کو بھی علاقے میں مغربی ممالک اور امریکہ کی اس قسم کی سرگرمیوں پر تشویش اور تحفظات ہیں۔ چین اور روس کا یہ بھی ماننا ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات انتہائی پیچیدہ نوعیت کے حامل ہیں۔ عالمی اقتصادی بحران نے اس تنظیم سے رکن ممالک کی توقعات اور امیدوں میں اضافہ کر دیا ہے لیکن یہ کہ بیشکک اجلاس میں شریک ممالک کس حد تک اپنے مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے، ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب بڑی حد تک روس اور چین جیسے ممالک کے دوسرے رکن ملکوں کے ساتھ رویے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اس کے رکن ملکوں کے درمیان اعتماد اور یکجہتی کے ساتھ ساتھ خارجی خطروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت میں اضافہ ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110